پھر پیر نے ارسلان کے کان میں یہ ورد ڈالا:
پیر نے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا: "اب تُو سمجھ گیا کہ کا مطلب کیا ہے۔ خیر کا مطلب ہمیشہ خوشی نہیں ہوتی — بس اتنا کہ جو ہوتا ہے، تُو اکیلا نہیں ہوتا۔" mere peer di har dam khair howay lyrics urdu
فاطمہ اسے لے کر گئی کی خانقاہ۔ وہاں پہنچے تو پیر صاحب عصر کی نماز کے بعد مراقبہ میں مصروف تھے۔ ارسلان نے ادب سے سر جھکایا۔ پیر نے بغیر بولے اس کی پریشانی بھانپ لی۔ پھر پیر نے ارسلان کے کان میں یہ
ارسلان نے اُسی رات سے یہ ورد شروع کر دیا۔ مگر مصیبت کم ہونے کی بجائے بڑھنے لگی۔ اس کا کاروبار ڈوب گیا، دوست اُسے چھوڑ گئے، صحت جواب دینے لگی۔ mere peer di har dam khair howay lyrics urdu
ارسلان کی آنکھ کھلی۔ اُسے محسوس ہوا جیسے اس کے دل سے پتھر اُٹھ گیا ہو۔ وہ دوڑ کر خانقاہ پہنچا اور پیر کے قدموں میں گر پڑا۔
پیر نے جواب دیا: "جب بھی کوئی مصیبت آئے، یہ پکارنا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ دل میں یقین ہو کہ تیرا پیر تیری ہر دم خیر ہی چاہتا ہے — خواہ وہ خیر تیرے لیے دُکھ کی صورت میں کیوں نہ آئے۔"
ایک دن اس کی بوڑھی ماں فاطمہ نے کہا: "بیٹا، دکھوں کی جڑ یہ ہے کہ تو نے اپنے پیر کو پہچانا ہی نہیں۔ جب تک مرشد کا سایہ سر پر نہ ہو، یہ دُنیا ویران ہے۔"